یہ طوفان جس کی عمومیت ناقابل انکار ہے موجودہ نسل انسانی سے قبل کا ہے
(۱۹۱۳ ، مضامین ابوالکلام آزاد ، ۱۷)
جیسے جیسے آبادیاں وسعت پذیر ہوتی گئیں ۔۔۔۔۔ نسل انسانی کا سلسلہ بڑھتا اور پھیلتا گیا
(۱۹۷۴ ، اردو دائرئہ معارف اسلامیہ ، ۱۱ : ۶۹۶) ۔
شاید کبھی وہ اس شاہکار کے انمٹ نقوش اپنے ذہن کے کینوس پر اتار سکے اور اسے نسل انسانی کو ۔۔۔۔۔ تحفتہً پیش کرسکے ۔
(۱۹۹۱ ، میرزا ادیب شخصیت اور فن ، ۱۴۱)