دلاں اس دکھ بھاری تھی ہلاک ہوتے ہیں زاری تھی
کہ قسمت ہے یو باری تھی جو لگ ہے نسل آدم کا
ہے تو وہ حور شمائل نہیں پرزادئہ حور
خوئے آدم ہے ولیکن نہیں نسل آدم
(۱۸۵۴ ، ذوق ، د ، ۲۹۰)
یہ مقصد نہیں ہوتا کہ ان پہاڑوں اور ریگزاروں میں رہنے والے نسل آدم کے بجائے کسی دوسرے سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں
(۱۹۴۲ ، طلوع و غروب ، ۸)
جن میں پوری نسل آدم علیہ السلام کو عموما ًاور اہل مکہ و عرب کو خصوصا ً عملی صورت میں یہ دکھلانا مقصود تھا ۔
۔ (۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۳ : ۴۰۲)