’’گیتا ‘‘ کی باتیں دہرانے ، میں پھر آتا ہوں دنیا میں
میں آتا ہوں اِس دنیا میں جب اس کو ویراں پاتا
(۱۹۴۰ ، کرشن گیتا ، ۱۴)
۔ چاروں طرف اداسی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے کھیت ویران پڑے تھے
(۱۹۹۲ ، الکھ نگری ، ۶۵)
۔ ملزمان نے ایک گلی میں اس کو چاقو دکھا کر آلیا تو کیا وہ گلی ویران تھی
(۲۰۰۳ ، مجموعہء قوانین اسلام ، ۹ : ۵۵۰) ۔
۲۔ اداس ، پریشان ، پراگندہ
اندھیری رات میں دونو غریب ویران سرگردان پھرتے تھے
۔ (۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۱۲۲)
۔ ویران تیران پڑی پھری اور ماما گیری کے جھگڑوں میں پڑ گئی
(۱۹۲۸ ، پس پردہ ، ۱۲۷)
۔ ہر چہرہ پریشان تھا اور ہر آنکھ ویران نظر آتی تھی
(۱۹۸۸ ، چار دیواری ، ۱۲۶)
۳۔ بے رونق ، کم آبا
ہم نے شہر کی خوب سیر کی ، نہایت ویران اور کنگال شہر ہے ۔
(۱۸۸۴ ، تذکرئہ غوثیہ ، ۹۹)
۔ ۴۔ بے کاشت ، غیر مزروعہ ، بنجر ، افتادہ ، نرجوت (زمین)
ں ۔۔۔۔۔ زمین بہت سی ویران ، غیر مزروعہ پڑی ہے ، لگانات خفیف ہیں زراعت کی حالت متزلزل رہتی ہے
۔ (۱۹۰۷ ، کرزن نامہ ، ۲۷)
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی!
(۱۹۳۵ ، بال جبریل ، ۱۶)
کثیر اراضی کے ویران و خراب رہ جانے کے باعث یہاں کے لیے رعایتیں دینا پڑتی تھیں
(۱۹۷۰ ، اردو دائرئہ معارف اسلامیہ ، ۵ :۲۷)
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .