سوغارت تلف شہر ویراں کیا
کہ جنگماں کوں سب مار حیراں کیا
اُس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے
دل ، پھر ، طواف کوے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنمکدہ ویراں کیے ہوے
جائیں زنداں سے کہاں اے وحشت خانہ خراب
کر چکے تھے پہلے ہی رو رو کے ویراں گھر کو ہم
وہ فوج کے ساتھ بسرعت تمام فلسطین آیا اور ۔۔۔۔۔۔ اردگرد کے علاقے کو ویران کر دیا
(۱۹۷۲ ، اردو دائرئہ معارف اسلامیہ ، ۱۲: ۱۷۱)
ہوا تند چلتی ہے کہ دیواروں کو ڈھا دیتی ہے اور عمارتوں کو ویران کر دیتی ہے
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۲۰۱)
میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو ویران کر ڈالوں گا
۔ (۱۹۲۳ ، سیرۃ النبی ﷺ ، ۷۲۸)
کیوں اناج ویران کر رہی ہے ، آگ لگ رہی ہے چاولوں کو تو
(۱۹۹۰ ، تار عنکبوت ، ۴۱) ۔