ویراں سرائے سینہ سے آتی ہے بوے انس
گویا کبھو یہ خانہ ترا جلوہ گاہ تھا
ویراں سرائے کا دیا ہے جو کون و مکاں میں جل رہا ہے
(۱۹۷۸ ، ویراں سرائے کا دیا ، ۱۷)
آدھی عمر میں انسان ویراں سرائے کی طرح ہو جاتا ہے کوئی آیا نہ گیا
(۱۹۸۷ ، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی ، ۵۵) ۔ ]