نہ جانوں روزِ محشر کیوں اچھیگا جاب و پرستش منج
کہ میخواراں منے اب تو ہمن مشہور کر ساقی
کوئی سمجھے ہے ترے گھر میں ہم آتے ہیں کیوں
ہو کے مانع تو نہ کر خلق میں مشہور ہمیں
آپ جہاز پر گئی اور بظاہر مشہور کیا کہ مجکو خرید اسباب نفیس کی منظور ہے ۔
(۱۸۴۲ ، الف لیلہ و لیلہ ، ۲۴۳) ۔
اس ماحول کے آدمیوں نے ۔۔۔۔۔ یہ مشہور کر دیا کہ منیجر مرجان سے شادی کر رہا ہے ۔
(۱۹۸۷ ، خاک کا ڈھیر ، ۴۵۱) ۔