اکثر مہمانوں کی آمد سے پہلے ماں کے ڈھیروں مکھن لگایا جاتا ۔
(۱۹۵۷ ، خدا کی بستی ، ۴۲۶) ۔
مکھن لگانے کی غیر معمولی صلاحیت ، آنا جانا ، کھانا پینا ۔۔۔۔۔ یہ باتیں ان میں سرے سے ہیں ہی نہیں ۔
(۱۹۸۵ ، بزم خوش نفساں ، ۲۴) ۔
اچھا ! اچھا ، اب مکھن لگانے کی ضرورت نہیں ۔
(۱۹۹۰ ، تار عنکبوت ، ۲۲۲) ۔