استاد احمد و حامد معماروں نے جو اپنے فن میں یکتاے روزگار تھے ایک ۔۔۔۔۔ عمارت کا نقشہ بادشاہ کے روبرو رکھا ۔
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۷ : ۴۰۰) ۔
سوداگر کی بیوی حسن و جمال میں یکتاے روزگار تھی ۔
(۱۹۰۱ ، الف لیلہ ، سرشار ، ۵۵) ۔
شیفتہ جس قدر سنجیدہ اور متین رئیس تھے اتنے ہی وہ علم و فضل میں یکتائے روزگار تھے ۔
(۱۹۵۶ ، تنقیدی سرمایہ ، ۳۷) ۔
تاج محل اگر یہاں نہ ہوتا اور یوں نہ ہوتا تو دنیا کے پردے پر یکتائے روزگار نہ ہوتا ۔
(۲۰۰۳ ، ورثہ اور دوسری کہانیاں ، ۲۰۶) ۔