اوروں کی جو پہری باجے چمو کی اٹھ پہری
( ۱۳۳۴ ، خسرو ، آب حیات ، ۷۶ )
نوبت خانہ قدم قدم پر
اٹھ پہریا بج رہی برابر
( ۱۸۸۱ ، مثنوی نیرنگ خیال ، ۱۲۴ )
ڈیوڑھی کا وی طنطنہ کہ سدر دولت کا سمان آنکھوں میں پھر جاتا تھا اٹھ پہری بجتی تھے
( ۱۹۵۴ ، اپنی موج میں ، ۱۲ )