آج تک کسو بادشاہ نے بغیر حزم درست کے کوئی ملک عمل میں نہیں کیا .
( ۱۸۰۳، گنج خوبی ، ۳۴ )
ہم سب بہت ہی حزم و احتیاط کے ساتھ دبے پائوں مکان میں داخل ہوئے .
( ۱۸۹۲، خدائی فوجدار ، ۱: ۲۶۶ )
میں نے اندازہ کیا کہ ٹانگانیکا اپنی مشکلات کا حل دانشمندی اور حزم سے تلاش کر رہا ہے .
(۱۹۷۱، تحدیثِ نعمت ، ۶۵۸ )