ہے سنہری رنگ کا یہ ہالہ گرد ماہتاب
بادلہ تجھ دور دامن نہیں سنجاف کا
ہمارے محلوں تائیں تمام زربفت و بادلہ کے پاانداز بچھا جائے .
(۱۷۴۶، قصۂ مہر افروز و دلبر ، ۸)
اس لباس کا پہنتا مباح ہے بشر طیکہ حریر کی قسم سے نہ ہو اور تاش بادلہ بھی نہ ہو .
(۱۸۳۹، رفاہ المسلمین ، ۳۴)
پھیلی جو چار سمت تجلی مصطفیٰ
بچھی امین پہ چاندنی گردوں پہ بادلا
(۱۹۶۵، اطہر گلدستہ اطہر ، ۲ : ۴۶)