اس چھجے پر غمزے کے بادل چھاتے .
( ۱۶۳۵، سب رس ، ۲۰۱ )
ہر گھڑی آیا ہے غم کا مہوں نین سوں بھر امنگ
من میں بادل برہ کا چھایا نہ ہوتا کا شکے
(۱۷۳۶، نادر (قدیم بیاض ، ۴۴ )) .
پھیلے ہوئے جو فوجوں کے تھے دل ہر اک طرف
چھائے تھے سارے دشت میں بادل ہر اک طرف
(۱۹۱۲ ، شمیم ، مرثیہ ، ۹)