اس محترق لاوا یعنی اسکورئے کے جسم میں جو خلل اور مسامات ہوتے ہیں وہ بخارات سے پیدا ہوتے ہیں .
( ۱۹۱۱ ، مقدمات الطبیعات ، ۱۲۶ )
یہ بھی طے نہیں ہوا کہ مکان میں جو مادہ بھرا ہے اس میں کلل یا فصل ہیں یا علیم الاتصال بھر ہوا ہے .
( ۱۹۲۹ ، مفتاح الفلسفہ ، ۲۸۲ )
بجلی گرنے سے عمارت میں کلل آگیا تو اس نے بڑھا کر اسے زیادہ بلند کر دیا .
( ۱۹۵۹ ، برنی (سید حسن) ، مقالات ، ۱۱۳ )
۲. (اْ خرابی ، بگاڑ ، فتور ، ابتری ، انتشار .
جہاں دو تین ملے وہاں . . . بھوت خلل ہے .
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۷۶ )
جست و خیز اسکی بیاں کیجیے گر پیش حکیم
اعتقادات حکیمانہ میں آجائے خلل
( ۱۷۸۰ ، سودا ، ک ، ۲۳۴ )
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
( ۱۸۶۹ ، غالب ، د ، ۱۴۹ )
ہم نکیرین سے کس طرح بچیں مرقد میں
آگیا ہے خلل ان دونوں کے ایمانوں میں
( ۱۹۴۰ ، دستوار الاصلاح ، ۷۴ )
اس تھیوری کے مطابق دوسرے میڈیم میں خلل ہر جگہ صفر نہیں ہوتا .
( ۱۹۷۲ ، تاب کاری ، ۱۲۴ )
اف : آنا ، ہونا .
-
(ii) غلطی ، عیب ، خامی ، نقص .
ہزار پیلا ہوا تو کیا ہوا اس پیلے میں ہزار خلل ، آخر سُنَا سو سُنَا ، پیتل سو پیتل .
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۳۲۷ )
ایک عمارت عالی و شہر و شہر پنا از خلل خالی تیار کی .
( ۱۷۷۵ ، نور طرز مرصع ، تحسین ، ۱۸۱ )
مولف جانتا ہے کہ یہ اوراق پریشان ہزاروں خلل و زلل سے مالا مال ہیں .
( ۱۸۶۸ ، رسالہ سیاست مدن ، ۲۵۷ )
نتیجہ سمجھے اے تسلیم عمر بدحواسی کا
اگر میری غزل میں نکتہ چیں کوئی خلل دیکھے
( ۱۹۰۷ ، دفتر خیال ، ۱۶۱ )
۳. ہضم کی خرابی ، پیٹ کا بگاڑ ، بد ہضمی .
( فرہنگ آصفیہ ؛ جامع اللغات )
۴. (عور) جن پری کا سایہ یا آسیب کا اثر ؛ جادو ٹونے کا اثر .
اس کے پڑھ حرف اور کر ان پہ عمل
دور سب ہوگا سحر کا وہ خلل
( ۱۷۹۱ ، حسر لکھنوی طوطی نامہ ، ۱۱۴ )
کوئی کہتا ہے کہ ہے اور خلل
اس نے پڑھنا کوئی سیکھا تھا عمل
( ۱۸۲۶ ، معروف ، د ، ۱۷۶ )
ایک بڑے مہاجن کی بیٹی کو دس برس سے آسیب کا خلل تھا .
( ۱۹۱۴ ، دربار حرام پور ، ۱ : ۷ )
بچے کو بلنگ پر چالیس دن تک نہیں سُلاتے اس لیے کہ آسیب کا خلل نہ ہو جائے .
( ۱۹۶۴ ، نور مشرق ، ۱۲۸ )
اف : ہونا
-
۵. دکھ ، روگ ، بیماری ، عارضہ .
دیکھتے ہی ترے ہاتھوں کو ہوا دیوانہ
یدِبیضا سے ہوا ہے یہ خلل سودا کا
( ۱۸۱۶ ، دیوان ناسخ ، ۱ : ۱۳ )
کسی کو پسلی کا خلل ہے کسی کو کھانسی ہو رہی ہے .
( ۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۹ )
بے شک وہ تپ دق کے مریض نہیں . . . البتہ اعصابی خلل کے بیمار ضرور ہیں .
( ۱۹۷۰ ، جنگ ، کراچی ، ۲ فروری : ۹ )
۶. شُد بُد ، دخَل .
پیدائشی امارت کی وجہ سے کچھ عمارت میں بھی خلل رکھتا تھا .
( ۱۹۲۶ ، اودھ لکھنو ، ۱۱ ؛ ۶ : ۷ )
۷. ظلم ، ستم .
تری گور میں آگ برسے مدام
کیا شاہ پر کیا خلل ہائے ہئے
( ۱۵۱۲ ، بیاض مراثی ، ۱۰۲ )
میں عاشق بیدل ہوں ترا اے مرے جانی
مت آنکھ چرا ہم سے ، تو ایسا نہ خلل کر
( ۱۸۰۳ ، نظیر ، ک ، ۱ : ۲۷ )
اف : کرنا .
-
۸. فتنہ ، فساد ، ہنگامہ .
نزیک ہے جو لشکر میں فتنا اٹھے
خلل ہووے ہوء ملک تیرا لٹے
( ۱۶۲۵ ، سیف الملوک و بدیع الجمال ، ۲۱ )
جب سزا والا سزا نہ پاوے اور دہشت کسو کے دل میں نہ رہے تو ملک میں ظلم بھی بہت ہوئے اور بادشاہی میں خلل بھی بڑا اٹھے .
( ۱۷۴۶ ، قصہ مہر افروزو و دلبر ، ۲۶۱ )
۹. فکر ، اندیشہ ڈر ، وہم .
سو بسے کچھ تو خلل تھا کہ شب ان نے محرم
غیر کے آتے ہی مجلس سے اٹھایا مجھ کو
( ۱۷۹۵ ، قائم ک ، ۱ : ۱۷۵ )
کیا بادشاہ نے اسی پر عمل
اٹھا دل سے اک بار سب کا خلل
( ۱۸۰۲ ، بہار دانش ، طپش ، ۲۸ )
ہر چمن میں یہ ترے عدل کا بیٹھا ہے عمل
گل کو گلچیں سے نہ صیاد سے بلبل کو خلل
( ۱۹۱۴ ، ریاض شفق ، ۲۴ )
۱۰. (i) فرق ، کسر ، کمی .
تنہائی سے دم سینے میں گھبراتا ہے بہنا
اب ٹھروں تو وعدے میں خلل آتا ہے بہنا
( ۱۸۷۴ ، انیس ، مراثی ، ۳ : ۲۶۳ )
پتھر کے گرد چکر کھاتا ہوا پانی آگے بڑھتا ہے اسی طرح مستقل ہواؤں کی راہ میں مقامی طور پر غیر مستقل یا عارضی دباؤ نمودار ہو جانے سے ان کی روانی میں خلل آ جاتا ہے .
( ۱۹۷۵ ، معاشی و تجارتی جغرافیہ ، ۷۴ )
(ii) رکاوٹ ، حرج .
ظالم وہ بیوفا ہے عدو جس کے رشک سے
اتنا کچھ آ گیا خلل اپنے نباہ میں
( ۱۸۵۱ ، مون ، ک ، ۱۰۲ )
ان دونوں مختلف جلسوں کو شرکت اور آمدورفت کی وجہ سے شعرالعجم کی تصنیف میں بہت کچھ خلل آ گیا تھا .
( ۱۹۴۳ ، حیات شبلی ، ۴۱۰ )
ادب کی عمومی نشوونما رک جاتی ہے ذہنی یکسوئی میں خلل واقع ہوتا ہے .
( ۱۹۷۷ ، سائیں احمد علی ، ۹ )
۱۱. ضرر ، نقصان .
دن کے میدان پہ جب سورتے دیکھیا ہے جھلک
رات کی ذات میں پنجا ہے اسی دک تے خلل
( ۱۶۷۲ ، شاہی ، ک ، ۱۲۵ )
مارے ڈر کے نہیں جاتے کہ کوئی انگریز نہ دیکھ لے اور نوکری میں خلل آئے .
( ۱۹۲۸ ، پس پردہ ، ۹۶ )
۱۲. سودا ، جنون .
اوس کا تحل پر خم کا خلل جائے تو اچھا
دل سر سے بَل تیرے یہ ٹل جائے تو اچھا
( ۱۸۴۰ ، نصیر دہلوی ، چمنستان سخن ، ۲۵ )
[ ع : (خ ل ل) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .