شیر شاہ نے اپنے بیٹے کو چندیری کی طرف بھیجا ہے کہ وہ ان حدود میں خلل انداز ہو .
( ۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۳ : ۳۰۰ )
صحبتیں تھیں نہ تمہیں تفرقہ پردازوں سے
دور رہتے تھے ہمیشہ خلل اندازوں سے
کاوش فلکر تفرقہ پرداز ہمیں سے
کیوں اے خلل انداز یہ انداز ہمیں سے
اس کے اجزائے باریک . . . آب کی شفافی میں خلل انداز ہونگے .
( ۱۸۳۳ ، ستہ شمسیہ ، ۳ : ۱۶ )
تمام اعضا . . . کم سے کم یہ کہ اس کے کام میں خلل انداز نہ ہوں
(۱۹۰۶ ، الکلام ، ۲ : ۵۵)
جذب اور پراگندگی کے مظاہر ایک دوسرے میں خلل انداز ہو جاتے ہیں .
( ۱۹۷۲ ، تاب کاری ، ۱۰۵ )
اس قسم کے الفاظ بھیی فصلحت میں خلل انداز خیال کئے جاتے ہیں .
( ۱۹۰۷ ، موازنۂ انیس و دبیر ، ۲۱ )