اِس خر نا مُشخَّص نے گدھے میں داغ لگا دیا.
( ۱۸۶۱ ، فسانۂ عِبرت ، ۵۳ )
شیر شاہ نے حکم دیا کہ بلوچی اپنے گھوڑون کو داغ لگائیں .
( ۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۳ : ۳۰۷ )
اگر جانور سرکار کے طویلے سے واپس ہوتا ہے تو اس کے بائیں رُخسار پر داغ لگاتے ہیں.
( ۱۹۳۸ ، آئین اکبری ( ترجمہ ) ، ۱ ، ۱: ۲۶۲ )
داغ دنیا نے لگایا ہے ہمارے فقر کو
اپنی گُدڑی میں بھی اک پیوند ہے کمخاب کو
ان گروہوں کے متصوفین نے غلط غلط تاویلیں کر کے تصوّف کو داغ لگا دیا ہے .
( ۱۹۲۶ ، حیاتِ فریاد ، ۱۴۹ )
میں نے تُمھارے باپ سے بد دیانتی نہیں کی اور نہ تُمھارے ماموں کو ذلیل کیا اور نہ تُمھارے حسب و نسب میں داغ لکایا.
( ۱۹۴۰ ، ہم اور وہ ، ۸۰ )
(ii) تیل کھولائیں اور سلائی کے کناروں پر رُوتی لپیٹ کر . . . ( ناسُور ) میں داغ لگائیں .
( ۱۹۳۶ ، شرح اسباب ( ترجمہ ) ، ۲ : ۲۲۸ )
تازہ داغ جناب پروفیسر حمید احمد خاں کی ناگہانی موت نے لگا یا .
( ۱۹۷۴ ، اردو نامہ ، کراچی ، ۴۸ ، ۵)