کِسو کے زن و فرزند پر بدنامی کا داغ نہ لگے .
( ۱۸۰۳ ، گنج ِ خوبی ، ۲۹ )
اُس رُخ کے عشق میں تنِ لاغر بنا ہلال
میری طرح کسی کو نہ داغ اے قمر لگے
اب تباہ ہونے کو اور کیا باقی رہ گیا ہے جو داغ لگنا تھا وہ تو لگ گیا .
( ۱۹۸۰ ، وارث ، ۸۷ )
گوشت بھُؤنتے میں داغ لگ گیا .
( ۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۴۱ )
تم یہاں باتوں میں بیٹھ گئیں اور گوشت میں داغ لگ گیا .
( ۱۹۷۹ ، عورت اور اُردو زبان ، ۵۹ )
ان کے ( پادری بروغلی ) ہم خیالوں کو یہ ڈر پیدا ہوتا ہوگا کہ مذہب عیسوی کو . . . داغ نہ لگ جائے .
( ۱۹۰۴ ، مقالات ِشبلی ، ۱ : ۱۵۸ )
میں یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ میرے قتل ہونے سے خانۂ کعبہ کئ حُرمت میں داغ لگے .
( ۱۹۵۸ ، شاد کی کہانی شاد کی زبانی ، ۱۴۱ )
اُوس ماہ کو بھی ماہ جبینوں کا لگا داغ
اب حُسن میں آتا ہے زوال اور طرح کا
دیا نہ تُو کفن اپنے سر فروشوں کو
اک اور داغ لگا ان سفید پوشوں کو
گِریاں وہ ہوں کہ کُچھ نہیں پروا ہے بعدِ مرک
دھو دیگی چشم ِ تر جو لگے گا کفن میں داغ