کیا کروں بولیا دل ہوا داغ کہ کیے ہیں علیٰ الرسول الاالبلاغ.
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۴۴ )
گرمی اہلِ بزم سے مت کر ، کہ میں ہوتا ہوں داغ
سمع کی خدمت میں ہے اِتنی ہی پروانے کی عرض
چمن میں جب مرے ہمراہ وہ نِگار ہوا
گلوں کو داغ ہوا بُلبلوں کو خار ہوا
عالم پہ مرے داغ ہو گُلزار میں جا کر
ٹہروں جو کبھی میں گُلِ خنداں کے برابر
بڑے بادیے میں نہاری جِس میں بھیجے اور نلیاں پڑی ہوتیں ، ایک کٹورے میں داغ ہوتا یعنی پیاز ڈال کر کڑ کڑایا ہوا خالص گھی .
( ۱۹۶۳ ، ساقی ، کراچی ، جولائی ، ۵۱ )
سہ اسپہ اور دو اسپہ اور یک اسپہ کے داغ ہونے کا.
( ۱۸۷۳ ، مطلع العجائب ( ترجمہ ) ، ۳۰۳ )