داغ
ِ مَحَبَّت
(کس اضا ( --- فت م ، فت ح ، شد ب بفت)
امذ
محّبت کی چوٹ ، دِل کی لگی ، داغ ِ اُلفت .
یارب طلب ہے داغ ِ محبّت می مُہر کی
مُدّت سے کام بند ہے دل کی برات کا
( ۱۷۳۹ ، کلیاتِ سراج ، ۱۴۰ )
اِس دور کی ظُلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ ِ محّبت دے جو چان٘د کو شرما دے
( ۱۹۲۴ ، بان٘گ درا ، ۲۳۷ )
[ داغ + محبَّت (رک) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .