زن اس روز ہے تج سوں بھی یار دوست
پاوے رات کوں او جو دلخواہ دوست
اس فائدۂ سبحانی سے ۔ ۔ ۔ زن و مرد اور پِیر و جوان ۔ ۔ ۔ کو بہرۂ فاضل اور نصیبۂ کامل حاصل ہووے ۔
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۳۸) ۔
مصیبت - حکام انگریزی اور عیسائیوں کے زن و مرد اور بچّوں پر پڑی ۔
(۱۸۹۸ ، سرسیّد ، مکمل مجموعۂ لکچرز و اسپیچز ، ۳۹۹) ۔
نوجوان لوگ اپنی پسند سے شادی کرتے ہیں ۔ شرط اسی قدر ہوتی ہے کہ زن و شو دو مختلف خاندانوں کے ہوں ۔
(۱۹۱۳ ، تمدنِ ہند ، ۸۷) ۔
کوئی اور حاکمِ وقت ہوتا تو بِگڑ بیٹھتا ، زن و بچہ کولھو میں پلوا دیتا ۔
(۱۹۸۵ ، طوبیٰ ، ۵۴۹) ۔
سلطان رقیہ بیگم ۔ ۔ ۔ اکبری زن کلاں یعنی پہلی بیوی تھی ۔
(۱۸۹۷ ، تاریخِ ہندوستان ، ۵ : ۷۶۷) ۔
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رن٘گ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں