دیکھے نہ پیر زال جہاں کو اُٹھا کے آن٘کھ
مردوں میں آبرو نہیں کچھ زن مُرید کی
یہ اسی قسم کی بے پہچان ہوتی ہے جس طرح زن مرید کے لیے نہیں طے کیا جا سکتا کہ یہ اپنی عورت کے مقابل اتنا بدھو کیوں واقع ہوا ہے ۔
(۱۹۴۰ ، مضامین رموزی ، ۲۷) ۔
عام طور پر مرد ، زن مُرید ہوتے ہیں ، یہ ماں مرید ہے ۔
(۱۹۸۱ ، راجہ گدھ ، ۲۸۶) ۔
ہمارے خواجہ محمد نصیر صاحب رنج کی بیوی زن مرید تھیں ، جن کا نام احمدی خانم تھا - ان کی کوکھ سے ایک لڑکی پیدا ہوئیں جن کا نام ننھی خانم رکھا گیا - جب ننھی خانم بارہیویں برس میں پڑیں تو ان کی ماں نے انہیں حضرت کا مرید کروا دیا ۔
(۱۹۳۳ ، فراق دہلوی ، لال قلعے کی ایک جھلک ، ۳) ۔