زن مُریدی کا دُکھ اس عمر میں ہے یوں بھرنا
پیر سے آپ کو جوں پیر کا گھوڑا کرنا
طلب دنیا کو کر کے زن مُریدی ہو نہیں سکتی
خیالِ آبروے ، ہمّتِ مردانہ آتا ہے
مُرغ نے کہا ۔ ۔ ۔ زن مُریدی ہمارے مالک پر ختم ہے ہم تو ایسی عورت کو وہ سزا دیں کہ عمر بھر یاد کرے ۔
(۱۹۰۱ ، الف لیلہ ، سرشار ، ۲۲) ۔
زن مُریدی کا تو فیصلہ تمہاری بیگم ہی کے سامنے ہو سکتا ہے کہ ہم دونوں میں سے کون زیادہ سعادت مند شوہر ہے ۔
(۱۹۸۱ ، چلتا مسافر ، ۵۱) ۔