کبھی وحشت نے یہ پٹی پڑھائی کہ زنانِ بازاری کی طرح رہنے لگی ۔
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۴ : ۵۰) ۔
بطنِ زوجۂ سومی یعنی ’’ زنِ بازاری ‘‘ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔
(۱۹۱۵ ، شجراتِ طیّبات ، ۸۱) ۔
مزار حضرت سلطان المشائخ کے پائیں زنانِ بازاری کے گانے کو روکنے کا اِرادہ ظاہر فرمایا ۔
(۱۹۵۷ ، سوانحِ عمری خواجہ حسن نظامی ، ۴۵) ۔