سوادِ اعظم ملکِ چین ہے اور اوس کو خطا بھی کہتے ہیں .
(۱۷۷۳، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۲۲۱).
اُن کے تابعوں کو کہ سوادِ اعظم میں داخل ہیں گُمراہ اور خاطی کہتے ہیں .
(۱۸۶۷، نورالہدایہ ، ۱ : ۱۳).
پیغمبرِ خدا صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ سوادِ اعظم کی پیروی کرو .
(۱۹۰۶ ، الحقوق و الفرائض ، ۲ : ۹۸).
مِلّتِ اسلامیہ کے سوادِ اعظم (یا سب سے بڑی جماعت) اہل السنۃ والجماعۃ میں شامل ہے.
(۱۹۶۷، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۳ : ۵۸۹)
انسانیت کا سوادِ اعظم ہر عہد میں خیر پر قائم رہا یا شر پر .
(۱۹۸۸، جنگ ، کراچی ، ۸ اپریل ، ۱۴).