(تصوف) اس سے مراد فنائے تام ہے کہ سالک کا وجود باقی نہ رہے نہ ظاہر میں اور نہ باطن میں اور نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں اسی کو فقرِ حقیقی کہتے ہیں اور یہی عدمِ اصلی کی طرف رجوع ہے اور ازاتم الفقر فھواللہ سے اِسی طرف اِشارہ ہے .
(ماخوذ : مِصباح التعرف ، ۱۴۹).