یہ مثل نہیں سنی ، چیونٹی کے پر نکلے ہیں یہ وہاں بولتے ہیں جہاں کوئی شیخی مارتا ہے اور اس کی موت آ پہنچتی ہے.
( ۱۸۶۹ ، اردو کی پہلی کتاب ، آزاد ، ۲ : ۴۱ )
میں آج کئی دن سے طرح دے رہا ہوں ، چیونٹی کو پر لگے ہیں.
( ۱۹۱۵ ، سجاد حسین ، طرحدار لونڈی ، ۹۴ ) .