جنوں میں خامہ فرسائی سے توڑے ہیں قلم اتنے
ہمارا گھر نہیں ہے اک نمونہ ہے نیستاں کا
تجھ دیکھ تصویر چھوڑتا کانسے سورنگی پھوڑتا
لے موں قلم کوں توڑتا اچھتا اگر مانی ہنوز
اس پیشہ نالایق سے دل کو سرد کر قلم کو توڑا
(۱۸۹۷، تاریخ ہندوستان، ۳ : ۱۲۵ )
جذباتِ محبّت ہیں تصنّع سے بری ہے
سُن کر یہ غزل میری قلم توڑے قلم ساز
تو پانی پو کھنچیا عجب یک رقم
کہ مانی کے نقشاں پر توڑیا قلم