جدائی کا نغمہ ، ہجر و فراق کے گیت ؛ مراد : وہ آہیں یا صدائیں جو جدائی کی وجہ سے بلند ہوں ۔
مولانا احمد سعید رہا ہونے لگے تو ان کی گھگھی بندھ گئی ، آنسوؤں کے تاروں سے نغمہ جدائی پھوٹ رہا تھا ۔
(۱۹۸۶ ، دلی والے ، ۵۳) ۔
[ نغمہء + جدائی (رک) ] ۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .