مملوک سلاطین (۱۲۵۰ء تا ۱۵۱۷ء) بالعموم علوم و فنون کی بڑے کھلے دل سے حمایت کرتے تھے لیکن متواتر ہلاکت آفریں خانہ جنگیوں کی وجہ سے سماجی زندگی برقرار نہ رہ سکی ۔
(۱۹۷۵ ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۱۵ : ۵۷۶) ۔
یہ تھا راز ۔۔۔۔۔ لیکن کتنا خوفناک اور ہلاکت آفریں ۔
(۱۹۹۰ ، کالی حویلی ، ۲۱۲) ۔
جدید تہذیب کس طرح ہماری پرانی روایتی تہذیب کو اپنے ہلاکت آفریں لمس سے فنا کے گھاٹ اُتار رہی ہے ۔
(۲۰۰۲ ، اختلاف کے پہلو ، ۲۸) ۔