یعقوب لیث لڑکپن سے اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالتا ۔
(۱۸۰۳ ، گنج خوبی ، ۳۸) ۔
خود اپنے کو ڈالا ہلاکت میں ہم نے
تنومند تھے نیم جاں کیسے کیسے
وہ تعلیمات مذہب پر عامل نہ ہونے سے ۔۔۔۔۔ کیوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے ۔
(۱۹۵۳ ، من و یزداں (نگار ، دسمبر ۱۹۹۵ء، ۱۱۴)) ۔
اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔
(۱۹۸۶ ، قرآن اور زندگی ، ۶۳) ۔
موسیٰ ندی میں طغیانی آئی ہوئی تھی ، محمد قلی نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال کر گھوڑے پر ندی کو پار کیا تھا ۔
(۱۹۹۳ ، قومی زبان ، کراچی ، مارچ ، ۲۵) ۔
اگر ہم خود اپنے آپ کو قعر ہلاکت میں ڈالنا چاہیں پھر بھی وہ اگر چاہیں تو بچا لیتے ہیں ۔
(۲۰۰۵ ، لطائف قرآنی ، ۳۹۲) ۔