دن بھر تو وہ فاختہ پڑھاتی
شب کو اسے آدمی بناتی
کل پتنگ بازنے ایک ناگن بنائی تھی آج ایک آدمی بنایا ہے.
(۱۸۹۱ ، امیر اللغات ، ۱ : ۷۷)
اتنا ہی اختیار رکھتی ہوتی تو تجھ کو آدمی ہی نہ بنالیتی.
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۱۰۷)
حیوان کو آدمی بنانا میری قدرت سے باہر ہے.
(۱۹۳۵ ، دودھ کی قیمت ، ۹۱)
نہلا دھلا کر کپڑے پہنائے ، تئے سر سے آدمی بنایا.
(۱۸۰۲ ، باغ وبہار ، ۱۵۲)