دیو آدمی بن کے بن میں آتے
آتے جاتے کو گھیر لائے
ہوش سنبھالا اور اس قابل ہوئیں کہ ماں باپ کی تربیت سے آدمی بنیں.
(۱۸۷۴ ، مجالس النسا ، ۱ : ۱۰)
یہ میں نہیں چاہتا کہ وہ آدمی بنے.
(۱۹۶۰ ، گلکدہ ، رئیس احمد جعفری ، ۱۶۰)
اگر دو چار سال کام چل گیا تو آدمی بن جاؤں گا.
(۱۹۳۵ ، دودھ کی قیمت ، ۱۴۸)
۴. وحشت ترک کرن ا، بدحواس نہ ہونا (بیشتر امر حاضر کی صورت میں مستعمل).
( بیشتر امر حاضڑ کی صورت مٰن مستعمل )
لپٹے کیوں جاتے ہو نچلے بیٹھو ، آدمی بنو.
( نوراللغات ، ۱ : ۸۲ )