تیرے دشمن تو ہوئے سب ماضی
باقی رہا یار سو ہے تجھ سے راضی
ماضی سانحوں کا حال شایقوں کو سناتے ہیں ۔
( ۱۸۶۲ ، شبستان سرور ، ۵ )
یہ طاقت مج میں نہیں جے کچھ ماضی و حال و مستقبل سب اس تھے وہی جانے ۔
( ۱۵۸۲ ، کلمۃ الحقائق ، ۷۳ )
ماضی ، مستقبل حال ، ایک کا ایک پوچھے احوال ۔
( ۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۸۵ )
وہاں ماضی اور استقبال نہیں ہے ۔
( ۱۸۷۰ ، خطباتِ احمدیہ ، ۳ )
میرے اسلام کو ایک قصۂ ماضی سمجھو
ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو
جس کو حاصل زندگی کا کچھ مزا ہوتا نہیں
کچھ بھی جس کے پاس ماضی کے سوا ہوتا نہیں
ایرانی محققین اور اہلِ قلم نے ایران کے قبل تاریخ ماضی کو دوبارہ زندگی دی ۔
( ۱۹۸۶ ، اقبال اور جدید دنیائے اسلام ، ۲۶۰ )
زمانے کی تین قسمیں ہیں ، ماضی جو گزر گیا، حال موجود ہے ، مستقبل آئے گا ۔
( ۱۸۸۹ ، جامع القواعد ، آزاد ، ۱۸ )
رو دینا ۔۔۔۔ اس کی ماضی کے فاعل کے ساتھ لے آتا ہے ۔
( ۱۹۰۴ ، مصباح القواعد ، ۳۹ )
ماضی وہ زمانہ ہے جو گزر گیا ۔
( ۱۹۷۱ ، جامع القواعد ( حصۂ صرف ) ، ۳۸۴ )