ماضی
قَرِیب
(کس صف نیز بلا اضافت ( -- فت ق ، ی مع)
امث
۱۔ قریب کا گزرا ہوا زمانہ ، تھوڑے عرصے قبل کا زمانہ ۔
ماضی قریب میں مولانا شبلی نعمانی کا نام لیا جاسکتا ہے ۔
( ۱۹۸۵ ، کشاف تنقیدی اصطلاحات ، ۱۲۵ )
۲۔ ( قواعد ) وہ ماضی جس سے قریب کا گزرا ہوا زمانہ سمجھا جائے ؟ جیسے : آیا ہے ۔
ماضی قریب سے ایسا زمانہ سمجھا جاتا ہے جو ابھی گذر چکا ہو اور زمانۂ حال کے قریب ہو ۔
( ۱۸۸۹ ، جامع القواعد ، آزاد ، ۲۲ )
[ ماضی + قریب ( رک ) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .