( قواعد ) وہ ماضی جس کے اظہار میں تمنا کا کلمہ ہو ؛ جیسے : کاش وہ آتا ۔
کہا یہ عشق نے اے کاش میں ہوتا نہ یوں رسوا
کہا یہ حسن نے یہ فعل ہے ماضی تمنائی
( ۱۹۳۵ ، عزیز لکھنوی ، صحیفۂ ولا ، ۴ )
[ ماضی + تمنا + ی ، لاحقۂ صفت ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .