نوکروں پر حکم کیا ایک آدمی کی خوراک کھانا اور ایک جام پانی دیا کرو .
(۱۸۲۴ ، سیر عشرت ، ۷۸ ).
کم مطرباں کون ساقی کہ اب صوت کم کرو
کن رکھ سنو کہ کرتے صراحی و جام بحث
مئے و ھدت کا سب سامان ہےامے بے خبر تجھ میں
آنکھیں کون جام و دل کو آبگینا ، سر کے نشیں خم کر
رکھا ساقی نے شیشہ ساں گریاں
کبھی خنداں نہ شکل جام کیا
خدا کی زات میں مل جانے کو جام کہیتے ہیں .
(۱۸۶۸ ، کشاب اسرارالمشئخ، ۱۵ ).
بھینک منگتے تمھارے ابرو پاس
ماہ نو جام ہے گدائی کا