عمرو نے ایک ایک کو چھاتی سے لگایَا کہا ملکہ حقیقت میں یہ سفرِ آخرت ہے شریک حال اس کی عنایت ہے .
( ۱۸۹۱ ، طلسمِ ہوشربا ، ۵ : ۷۰۶ ) .
۱۹۱۴ ء میں نواب سعادت علی خان نے سفرِ آخرت کیا .
( ۱۹۲۶ ، شرر ، مشرقی تمدن کا آخری نمونہ ، ۱۱۰ ) .
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سفرِ آخرت کا وقت آپہن٘چا ہے ۔
( ۱۹۸۵ ، طوبیٰ ۶۳۲ ) .