میں تو ایسی احتیاط کرتا تھا سفر و حضر میں تجھ کو ساتھ رکھا ۔
( ۱۸۹۱ ، طلسمِ ہوشربا ، ۵ : ۲۳۶ ) .
سفر و حضر میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا ۔
( ۱۹۳۸ ، حالاتِ سرسید ، ۱۲۵ ) .
یہ کام جو غالباً ۴۳ ، ۴۴ء کے درمیان شروع ہوا اور اس کا سلسلہ سفر و حضر میں ریل پر ... نقل و حرکت اور انتشار کی حالت میں بھی جاری رہا ۔
( ۱۹۸۳ ، کاروانِ زندگی ، ۲۱۶ ) .