۱. مہر ، کسی چیز کو سربند کرنے کا عمل یعنی اس طرح بند کرنا کہ سربمہر کرنے کے بعد نہ باہر سے کوئی چیز اندر جا سکے اور نہ اندر سے کچھ نکالا جا سکے.
عربی لغت اور محاورے کی رو سے ختم کے معنی مہر لگانے ، بند کرنے ... کے ہیں.
(۱۹۸۴ ، اسلامی انسائیکلوپیڈیا ، ۸۳۵)
۲. ابتدا کی ضد ، اخیر ، انتہا ، اختتام ، خاتمہ ، انجام.
ختم ہے مقیمی بہ نعمت نبیؐ
تو کر یاد اب چار یاروں کو بھی
(۱۶۳۸ ، چندر بدن و مہیار ، ۷۹)
گرمیاں ختم پہ تھیں آمد باراں کی تھی آس
ہلکے چھینٹوں سے بجھی تھی نہ ابھی خاک کی پیاس
(۱۹۴۹ ، جوئے شیر ، ۲۴۵)
۳. تمام ، مکمل .
جیو سوں جیو ، دم سوں دم ، نبوت محمد پر ولایت علیؓ پر ختم.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۶)
یہ احمدؐے کہ نبوت ہوئی ہے اس پر ختم
یہ فاطمہؓ کہ وہ ہے بنت سید مختار
(۱۸۱۰ ، میر ، ک ، ۱۱۹)
کئی میدان تو ایسے ہیں کہ تڑپا دینگے
ختم تک کون سنے گا مرے افسانے کو
(۱۹۱۹ ، درشہوار ، بیخود ، ۸۱)
رسول اللہ صلعم نے فرمایا رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی.
(۱۹۸۴ ، اسلامی انسائیکلوپیڈیا ، ۸۳۵)
۴. ایک نشست میں سب کا مل کر پورا قرآن یا کئی قرآن پڑھنا.
حقیقت ہجر کے دن کی کہے اور وصل کی شب کی
کرے جو ختم قرآن ماہ رمضان کے شبینوں میں
(۱۷۳۹ ، کلیات سراج ، ۳۷۶)
ایک پرہیز گار کی نقل ہے کہ ہر رات کو دس سیر کھاتا تھا اور صبح تک ایک ختم نماز میں کرتا تھا.
(۱۸۴۴ ، ترجمۂ گلستان ، حسن علی ، ۵۲)
کلام اللہ شریف کے ختم میں شرکت فرمائی اور نیاز میں بھی شریک ہوئے.
(۱۹۳۴ ، بہادر شاہ کا روزنامچہ ، ۴)
۵. (i) فاتحہ ، قُل ، نذر ، نیاز.
ختموں اور عرسوں میں اس کی چند آیتیں یا سورتیں مناقب کے ساتھ پڑھی جائیں.
(۱۸۷۹ ، مقالات حالی ، ۱ : ۷۷)
شیرنی اور ختم کا دستور نہیں.
(۱۹۰۸ ، سفرنامۂ ہندوستان ، ۵۶)
(ii) درگاہ شریف پر سالانہ تقریب عرس.
دو بجے ختم پڑھا گیا چار بجے برخاست کر کے درگاہ شریف کی زیارت کر کے کوٹھی کو واپس ہوا.
(۱۹۱۴ ، سیر پنجاب ، ۲۱)
درگاہ میں پہلے ختم پڑھا جاتا ہے اور پھر قوالی شروع ہو جاتی ہے.
(۱۹۶۷ ، اجڑا دیار ، ۳۲۹)
۶. حاجت برآری کے لیے کسی آیت یا اسم مبارک کا مقررہ شرائط کے ساتھ ورد کرنا.
قرآن اور ختمات پڑھیں نہ اوپر قبر اور نہ غیر اس کے.
(۱۸۵۱ ، عجائب القصص (ترجمہ) ، ۲ : ۵۰۹)
پیروں نے اسے مرید اور چیلا بنا لیا اور سرور کی مدح میں گیت گاے ، ختم اور درود پڑھا.
(۱۹۶۲ ، حکایات پنجاب (ترجمہ) ، ۱ : ۱۰۱)
۶. خوشی ، غم یا کسی واقعہ کی یاد میں سالانہ تقریب، سال گرہ ، برسی.
قبل ازیں گیارہ نومبر کا دن آتا تھا تو ہر جا منعقد ہوتا تھا جشن ، اوّلین جنگ عظیم یورپی کے ختم کا.
(۱۹۷۳ ، پرواز عقاب ، ۷۷)
اف: پڑھنا ، کرنا ، ہونا.
۸. رک : خاتم.
اردو میں ہمارے ختم الشعراء نے خود عذر کیا ہے کہ اردو میں میرا رنگ پھیکا ہے.
(۱۹۰۳ ، چراغ دہلی ، ۲۹)
[ ع : (خ ت م) ]
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .