یو چاند سورج کی جائی ، جس پر ختم ہوئی زیبائی.
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۲۴۳)
ہے ختم یار جائی تیرے دہن کی تنگی
کہنے کی بات نہیں ہے باریک ہے معما
اس دم ساری حکیمی آپ پر ختم ہوئی کہ مجھ سے مردے کو ایک بات میں زندہ کیا.
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۴۴)
شرمِ رسوائی سے جا چھینا نقابِ خاک میں
ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
لکھنو کا انداز گفتگو لکھنو ہی پر ختم ہے.
(۱۹۵۹ ، محمد علی ردولوی ، گناہ کا خوف ، ۶۴)
ہوئے ختم اس پر نبوت کے کُن
بجے طبل اس کا قیامت لگن
خلق و مروت حسنی ان پہ ختم تھی
حُسن ان پہ ختم ، گل بَدَئی ان پہ ختم تھی
یہ کہنا غالباً صحیح نہیں ہے کہ غزل میر پر ختم ہو چکی ہے.
(۱۹۸۳ ، بت خانہ شکستم من ، ۱۸)
میں نے آہستہ سے کہا شیر ختم ہو چکا ہے اب گولی ماروگی تو اس کی کھال خراب ہوگی.
(۱۹۴۰ ، مضامین رموزی ، ۷۲)
لوکی . . . لڑھکتی ٹکراتی پہاڑ کے نیچے آکر دھڑام سے گر پڑی . . . اور اس کے ساتھ ہی اس کے اندر لیٹا ہوا بڑا لینگ (بڑا بھائی) بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا تھا.
(۱۹۷۵ ، چینی لوک کہانیاں ، ۱۴۰)
بیٹا ا جو قائم رہا وہ بار اتر گیا . . . اور یہ امارت کی صورت ختم ہو جائے گی.
(۱۹۶۲ ، حکایات پنجاب (ترجمہ) ، ۱ : ۲۵۷)
خزاں کو گود لیا یا اجڑ گئیں گودیں
فسانہ ختم ہوا ماہتاب لکھنے کا