فلک سوں دسیں بان٘س بھر بے شُمار
کہ منصور یک ہور ہزاراں ہیں دار
مُشتاق ہوں جب سیں سرو قد کا
شمشاد کوں دار بُوجھتا ہوں
جب دار کو دیکھا ہاتھ زندگی سے دھوئے .
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۱۴۵)
خار سے آبلۂ پاکو ہے رغبت ایسے
جس طرح حضرتِ منصور کو تھی دار پسند
اگر سر لائقِ دار تھا تو یہاں کسے انکار تھا .
۰۱۹۱۵ ، سی پارۂ دل ، ۳۶)
جھومتے ہیں تہِ شاخ دار اے چمن
لے ترے نونہالوں کو نیند آ گئی
صبح کو قاضی سے فتویٰ پوچھا دار کا حکم ملا .
(۱۸۶۲ ، شبستانِ سرور ، ۱۲۳)
وہ بڑی پانچ مکّار ہے قابلِ حبس و دار ہے .
(۱۸۹۰ ، فسانۂ دل فریب ، ۳۷)
دار سے بھی گزر کے دیکھ لیا
طے محبت کی رہ گزر نہ ہوئی
دونوں ہات اس کے درختِ چنار
دونو پان٘و ہور ران مانندِ دار
پُرانی فارسی میں دار درخت کو کہتے ہیں .
(۱۹۲۶ ، خزائن الادویہ ، ۴ : ۹۶)
سعد نے دیکھا کہ ایک عفریت خون٘خوار آہن کا دار کان٘دھے پر رکھے ہوئے سامنے آیا اور دار کا وار کیا .
(۱۹۰۲ ، طلسم نوخیز جمشیدی ، ۳ : ۱۷۳)