یہ ہے آرزو میری شام و سحر
کہ دارالفنا سے کروں میں سفر
دارِ فنا سے لے نہ چلے کچھ تو غم نہیں
فرمایئے تو ، لائے تھے ملکِ بقا سے کیا
دارالبقا کا بُھول گئے اہتمام تُم
دارلفنا کو سمجھے ہو اپنا مقام تُم
دیکھا تو سب بھائی بیچارے دارالفنا کو سدھارے ہیں .
(۱۹۰۱ ، الف لیلہ ، سرشار ، ۳۴۳)