عرضداشت عاشق کوں معشوق پاس
عشق تاراں سوں تم بجا دو کماج
گلرخ اپنی ماں گلچہرہ کوں عرضداشت لکھتی ہے.
(۱۷۴۶، قصہ مہر افروز ود لبر، ۱۳۶)
یہ عرضداشت حضورمیں پہنچا دے.
(۱۸۸۷ ، خیابانِ آفرینشن ، ۵۹)
۲۰ / دسمبر ۱۹۰۰ء کو اپنی عرضداشت سکرٹری اوف اسٹیٹ ہندی کی خدمت میں پیش کی.
(۱۹۰۷، کرزن نامہ ، ۲۵)
میں نے ان کی خدمت میں ایک عرضداشت پیش کرنی ہے.
(۱۹۸۴، چولستان ،۲۷۱)