دلاں کے آہواں سب کے سدا کال
جفا کے تیر سوں تھے فارغ البال
گرفتار ہے جو تری زلف کا
وہ ہر قید سے فارغ البال ہے
صدہا ... آسودہ حال ہو کر فارغ البال ترقی اقبال مناتے ہیں.
(۱۸۶۸ ، سرور ، انشائے سرور ، ۴)
وہ معاش کی طرف سے فارغ البال تھے
(۱۹۰۱ ، حیات جاوید ، ۲)
خوشی صرف اس بات کی تھی کہ پرانے دوست ... وہ خوش حال اور فارغ البال ہے.
(۱۹۸۸ ، احوال دوستاں ، ۱۰۹)