کوئی سامان ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان کو فکر معاش سے فارغ البالی ہو.
(۱۸۷۷ ، توبۃ النصوح ، ۱۱۸)
فارغ البالی اور خوش حالی کے آثار نظر نہ آئے.
(۱۹۲۲ ، نقش فرنگ ، ۲۶)
انکی باقی عمر عظیم آباد میں فارغ البالی سے بسر ہوئی.
(۱۹۸۸ ، قومی زبان ، کراچی ، جون ، ۳۵)