سپاس شرطِ ادب ہے ورنہ کرم ترا ہے ستم سے بڑھ کر
ذرا سا اک دل دیا ہے وہ بھی فریب خوردہ ہے آرزو کا
دماغ میخانہ بے خودی کا ، نگاہ آئینۂ تحیّر
عجیب کیفیتیں ہیں وحشت فریب خوردہ ہوں رنگ و بُو کا
ان فریبوں خوردہ ، سادہ لوح اللہ کے بندوں کو صحیح حالات بنانے اور اسلام کے عقائد سے واقف کرانے کی شدید ضرورت ہے .
(۱۹۸۴، طوبیٰ ، ۴۱۶) .