اس شخص نے تجھ کو بھی فریب دیا .
(۱۸۸۷، خیابان آفرینش ، ۳۷) .
یعنی دل سے ایمان نہیں لائے جو حقیقت میں ایمان ہے صرف زبان سے فریب دینے کے لئے اظہار ایمان کرتے ہیں .
(۱۹۳۲ ، تفسیر القرآن الکیم ، مولانا شبیر احمد عثمانی ، ۴) .
فریب ہم کو نہ کیا کیا اس آرزو نے دیئے
وہی تھی منزلِ دل ہم جہاں سے لوٹ آئے