جو شخص نمائش و فریب دہی میں خاص ملکہ رکھتا ہے ، اس کے لیے یہ ہر گز ضروری نہیں ہے کہ وہ جماعت پر کوئی مستقل و دیرپا اثر ڈال سکے .
(۱۹۱۵، فلسفۂ اجتماع ، ۲۲۶) .
ہمارے حکمرانوں کی فریب دہی یہ تھی کہ اسے قومی زبان کا نام بھی دیتے تھے.
(۱۹۸۱، زاویۂ نظر ، ۸۸) .