دل دریا میں غم کی موجاں آوتی ہیں فوج فوج
عشق کے تختے اوپر کیا ڈر ہے طوفان زور تھے
یہ تو فرزند رسول خدا کا سر ہے ! اوٹھ کے زمین و زماں روتے اور فوج فوج فرشتے زیارت کوں آتجھ پر لعنت کرتے .
(۱۷۳۲ ، کربل کتھا ، ۲۲۹).
زنبورانِ عسل فوج فوج اس قلعہ جوف میں ذخیرہ رکھتے تھے .
(۱۸۳۸ ، بستان حکمت ، ۱۵).
اوس کے پاس فوج فوج آدمی جمع ہونے شروع ہوئے .
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستنا ، ۴ : ۳۴۵).
فتح مکہ کے بعد ... عرب کا ہر قبیلہ فوج در فوج آکر مسلمان ہوتا تھا .
(۱۹۱۹ ، آپ بیتی ، حسن نظامی ، ۱۱۱).
مذاقِ دوئی سے بنی زوج زوج
اُٹھی دشت و کہسار سے فوج فوج