۱۔ ایک نہایت تیز رفتار خوب صورت جنگلی جانور جس کا رنگ عموماً بھورا اور قد بکری سے کچھ بڑا ہوتا ہے اور جس کی آنکھوں کی خوبصورتی مشہور ہے ۔
جاتے لک اس باٹ میں چار ہرن تھے ۔
(۱۴۲۱ ، بندہ نواز ، شکار نامہ ، ۱) ۔
۔۔۔۔۔۔ ہنسیا نور ہوا شعلہ زن
باک کے مکہ میں سٹیاناف تھے نافہ ہرن
(۱۵۱۸ ، لطفی (اردو ، اکتوبر ، ۱۹۵۰ ، ۴۴)) ۔
ترا مکھ لوح کلبایا ڈروں ناں میں پری جن تھے
ہندو پاتر سنپڑتی نیں بچکتی جیون ہرن پتلی
(۱۶۱۱ ، قلی قطب شاہ ، ک ، ۱ : ۳۲۳) ۔
تج جک چیل اوپر سوں واروں ترنگ ہرن کوں
ابرو مژہ اوپرتے تیر و تبر کوں واروں
(۱۶۷۹ ، دیوان شاہ سلطان ثانی ، ۷۸) ۔
ہرن کی جلد سے جلدی نکل کر
درخت اوپر چڑھا آنکھوں کو مل کر
(۱۷۶۴ ، عاجز ، قصہ لال و گوہر ، ۲۰) ۔
آہو ہرن سہا خرگوش
کھال رات جو گزری دوش
(۱۷۹۳ ، ذوق الصبیان (مقالات شیرانی ، ۲ : ۱۲۶))
۔ جس طرح ہرن پاڑھے اور بہت سے وحشی اور درندے اُن کا ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ۔
(۱۸۱۰ ، اخوان الصفا ، ۳۳) ۔
ہر چند ہرن نے رو رو کے پکارا اور اپنا سر دے دے مارا ۔
(۱۸۴۵ ، حکایت سخن سنج ، ۱۲۲) ۔
دیکھا کہ ایک اعرابی ، چیتا ہرن گردن اور پاؤں پکڑے کھڑا بیچتا ہے ۔
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب ، ۱۳۶) ۔
بس مینے اسکو چاندی اور سونا اور گلاب کا پھول اور ایک ہرن دیا ۔
(۱۸۸۰ ، فسانہء آزاد ، ۴ : ۶۳) ۔
دونوں قسم کے ہرن ایک ہی گھاس کھاتے ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبی ، ۳ : ۸۹) ۔
اس وقت ہماری دوڑ اس جنگلی ہرن کی طرح ہے جو شکاری کتوں کے خوف سے بہت تیز دوڑنا چاہتا ہے ۔
(۱۹۶۴ ، پاکستانی کلچر ، ۲۳۷) ۔
انھیں بھنے ہوئے ہرن اور دوسرے شکار کے گوشت کھلانے ۔۔۔۔۔ کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا ۔
(۱۹۹۸ ، بلبلیں نواب کی (ترجمہ) ، ۱۰۰) ۔
ایک ہرن کا نشانہ باندھتا ہے لیکن نشانہ خطا ہوجاتا ہے ۔
(۲۰۰۲ ، مجموعہ قوانین اسلام ، ۱۰ : ۲۴۲) ۔
ہم ہرن کو نہ کھاتے تو کیا گھاس چرتے رہتے ؟
(۲۰۰۳ ، تسلیمات ، ۳۹۷) ۔
۲۔ بطخ ؛ شیوا / وشنو کا لقب ؛ سبزی مائل سفید (رنگ)
(پلیٹس) ۔
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .