پڑی سب قبیلے میں اوسکے یہ دھوم
نہایت کیے سب نے اوس پر ہجوم
خواہشیں خلق کی اوس کے سیکھنے پر ہجوم کرتی ہیں ۔
(۱۸۰۵ ، دیباچہء گلزار عشق (صحیفہ ، لاہور ، جنوری ، ۱۹۷۳ ، ۱۱۲) ) ۔
سلطان محمد شاہ پاس قطب خان آیا اور ارکان دولت کی وساطت سے بادشاہ سے عرض کیا کہ سرہند میں افغانوں نے ہجوم کیا ہے ۔
(۱۸۹۷ ، تاریخ ہندوستان ، ۲ : ۳۳۲) ۔
نہیں ہے جوگی اگر چشم یار ، گرد اس کے
ہجوم کرتے ہیں مژگاں کے بالکے کیسا
دل میں جنبش پیدا ہوئی تو تخیلات نے ہجوم کیا ۔
(۱۹۱۶ ، ایک نادر سفرنامہ ، ۴۱) ۔
نئے نئے حالات اور واقعات ان پر ہجوم کر کے ٹوٹ پڑے ۔
(۱۹۳۵ ، چند ہمعصر ، ۲۳۷) ۔